نئی دہلی،2؍جولائی (ایس او نیوز؍یو این آئی) نوٹوں کی منسوخی کے بعد ڈیجیٹیلائزیشن کی حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود ملک میں چلن میں موجود نوٹوں کی رقم 19فیصد بڑھ کر 21,137.64ار ب روپے پر پہنچ گئی ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے لوک سبھا میں پیر کو ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ نوٹوں کی منسوخی سے پہلے 4 نومبر 2016کو 17,741ارب روپے کے نوٹ چلن میں تھے۔ اس برس 29مارچ تک یہ رقم بڑھ کر 21,137.64ارب روپے پر پہنچ گئی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے 8نومبر 2016کو نوٹوں کی منسوخی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے تحت 500روپے اور ایک ہزار روپے کے اس وقت چلن میں موجود نوٹوں کو ممنوع کردیا گیا تھا۔ بعد میں 500روپے کے نوٹ اور دو ہزار روپے کے نوٹ جاری کئے گئے تھے۔ بعد میں حکومت نے کہا تھا کہ نوٹوں کی منسوخی کا ایک مقصد ڈیجیٹل لین دین کا فروغ دینا اور معیشت میں نقدی کے استعمال کو کم کرنا تھا۔
محترمہ سیتارمن نے آج اپنے تحریری جوا ب میں اقتصادی جائزہ17-2016کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پوری دنیا میں نقدی اور غلط کاموں کے درمیان گہرا رشتہ پایا جاتا ہے۔نقدی جتنی زیادہ چلن میں ہوگی، بدعنوانی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔